18 اکتوبر 2010 - 20:30

سعودی عرب کے دو معتدل مفتیوں نے فتوی دیا ہے کہ کہ فرانس سمیت جن یورپی ریاستوں میں نقاب پہننے پر پابندی ہے وہاں مسلم خواتین چہرے کو کھلا چھوڑسکتی ہیں، تاہم خواتین کو ایسے ممالک میں سیاحت کی غرض سے جانے سے گریز کرنا چاہئے۔

اسلامی فقہ کے اسکالر شیخ محمد النجیمی اور عالم دین اور مصنف شیخ عائِض القَرنِی کی جانب سے یہ فتویٰ فرانس کے ایوان زیریں میں منظور ہونیوالے اُس بل کے دو ہفتے بعد سامنے آیا ہے جس کے تحت پبلک مقامات پر برقع اوڑھنے یا نقاب پہننے والی خواتین پر جرمانہ عائد کیا جائیگا۔ شیخ النجیمی کے مطابق فرانس میں مستقل رہائش رکھنے والی خواتین کو اگر نقاب اوڑھنے میں کسی نقصان کا اندیشہ ہے تو وہ چہرہ کھلا چھوڑ سکتی ہیں۔

حقیقت یہ کہ خالص محمدی (ص) اسلام کے مطابق ـ جس کے احکام آل رسول (ص) کے توسط سے ہم تک پہنچے ہیں اور عالم انسانیت کی دنیاوی اور اخروی سعادت کی ضمانت فراہم کرتے ہیں ـ خواتین کا چہرہ چھپانا اور نقاب اوڑھنا یا برقع پہننا واجب نہیں ہے بشرطیکہ انہوں نے زیبائش و آرائش نہ کی ہو لیکن وہابی انتہاپسند مفتیوں نے شدت پسندی اور سختگیری کی وجہ سے اس طرح کا لباس پہننے کو واجب قرار دے کے مغرب میں قیام پذیر مسلم خواتین کو مشقت میں ڈال دیا ہے، وہ خواتین کے لئے برقع اور نقاب فرض قرار دیتے ہیں مگر ان دو معتدل سعودی مفتیوں نے وہابیت کے انتہاپسند علمبرداروں کے شدت پسند علمبرداروں کے سختگیر اور انتہاپسندانہ موقف کو معتدل کرکے زیادہ معقول اور منطقی موقف اپنایا ہے؛ گویا معتدل سلفی علماء کو بھی انتہاپسند مفتیوں کے موقف کو معتدل بنانے کی ضرورت کا احساس ہو ہی گیا ہے۔

شیخ عائض القرنی نے اس سے پیشتر  سعودی عرب کے شیعہ علماء کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کی دستاویز پر دستخط کرکے سعودی عرب میں قومی اور مذہبی اتحاد کی جانب قدم اٹھایا تھا۔
....
/110

۔۔۔۔۔۔۔

/110